مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، سپاہ ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل حسین محبی نے کہا ہے کہ اگر ایران کے پاس سمندری نقل و حرکت کی نگرانی کے لیے مؤثر ذرائع موجود نہ ہوتے تو حساس مقامات پر بحری جہازوں کو درست نشانہ بنانا اور ان کے انجن روم کو ناکارہ بنانا ممکن نہ ہوتا۔
مہر نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے امریکی حکام کے اس دعوے کو مسترد کردیا جس میں کہا گیا تھا کہ ایران کے ریڈار نظام کو نشانہ بنایا گیا ہے اور تیل بردار جہاز آبنائے ہرمز سے گزر سکتے ہیں۔ جنرل محبی نے کہا کہ یہ دعوے زیادہ تر میڈیا مہم کا حصہ ہیں، جبکہ پاسدارانِ انقلاب کی معلوماتی نگرانی اور انٹیلی جنس صلاحیتوں کو صرف ان ریڈارز تک محدود نہیں کیا جا سکتا جن سے دشمن واقف ہے۔
انہوں نے ایرانی مسلح افواج کے نگرانی کے طریقہ کار کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سپاہ پاسداران انقلاب کی نگرانی صرف ان ذرائع سے نہیں ہوتی جن کا امریکہ تصور کرتا ہے، بلکہ نگرانی کے دیگر طریقے بھی موجود ہیں جن کی شناخت مخالف فریق کے لیے آسان نہیں۔
جنرل حسین محبی نے کہا کہ اگر اسلامی جمہوری ایران کے پاس بحری نقل و حرکت پر نظر رکھنے کی صلاحیت نہ ہوتی تو وہ بحری جہازوں کے حساس حصوں کو درست نشانہ کیسے بنا سکتا تھا؟
سپاہ پاسداران کے ترجمان نے کہا کہ جب کوئی میزائل کسی جہاز کے حساس حصے یا انجن روم کو نشانہ بناتا ہے اور جہاز حرکت کرنے کے قابل نہیں رہتا تو یہ درست معلومات، نگرانی اور ہدف شناسی کی صلاحیت کا ثبوت ہوتا ہے۔ اس طرح کی کارروائیاں ظاہر کرتی ہیں کہ ایران کے پاس اپنے اہداف کے بارے میں مؤثر معلومات اور انہیں نشانہ بنانے کی صلاحیت موجود ہے۔
جنرل محبی نے دشمن کے نگرانی اور شناختی نظاموں پر ہونے والے حملوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایران نے خطے میں دشمن کی "آنکھوں" کو نشانہ بنایا ہے اور ان کے ریڈارز اور نگرانی کے نیٹ ورک کو متاثر کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر دشمن یہ سمجھتا ہے کہ چند معلوم ریڈارز کو تباہ کرنے سے ایران کی نگرانی کی صلاحیت ختم ہو جائے گی تو یہ اندازہ حقیقت سے دور ہے۔
سپاہ کے ترجمان نے خلیج فارس کے وسیع رقبے اور سمندری کارروائیوں کی دشواریوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جب رات کی تاریکی میں بھی میزائل درست ہدف تک پہنچتا ہے تو اس کے پیچھے مضبوط معلوماتی اور آپریشنل صلاحیت موجود ہوتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران اپنے اہداف کی نگرانی کس طریقے سے کرتا ہے، یہ ایسی معلومات نہیں جن کی دشمن کو مکمل تفصیل معلوم ہوسکے۔ کارروائیوں کے نتائج اور نشانے کی درستگی خود ایران کی معلوماتی برتری کی نشاندہی کرتی ہے۔
آپ کا تبصرہ